بے شک قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا اور تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا!۔
Explanation
اللہ کا یہ فرمان : اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا!، یعنی میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا، یہ تو بات تو طَے شدہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے لیے تو کھانا طلب نہیں کرتا اس کا فرمان ہے: ﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾ ”وہی ہے جو کھانے کو دیتا ہے، اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا“ (الأنعام: 14) وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اسے نہ کھانے کی ضرورت ہے نہ تو پینے کی حاجت ہے، لیکن دنیا میں اس کے بندوں میں سے کسی بندے کو بھوک لگی تو ایک شخص نے باوجود جاننے کے اسے کھانا نہ کھلایا تو ارشاد فرمایا: اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا“ یعنی اس کھلانے کا ثواب میرے پاس میرے خزانون سے پاتا میرے پاس ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
اللہ کا یہ فرمان: اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو تُو نے مجھے نہیں پلایا، یعنی میں نے تجھ سے پینے کی کوئی چیز مانگی تو تُو نے مجھے نہیں دی تو بندہ کہے گا :میں کیسےآپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟، یعنی آپ کو تو کھانے پینے کی ضرورت ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے کو پیاس لگی یا اس نے تجھ سے پانی مانگا، اور تو نے اسے نہیں پلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پانی پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی پیاسا آپ سے پانی مانگے تو اسے پانی پلانے پر آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پلانے کا ثواب (خزانوں میں) جمع ہو گا، ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

