’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘
تشریح
فوائد
ایسی مجلسوں کی فضیلت جن میں اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا جائے۔ جو مجلسیں ان دونوں باتوں سے خالی ہوں، وہ قیامت کے دن وہاں بیٹھنے والوں کے لیے باعث نقصان ہوں گی۔
ذکرِ الٰہی سے غافل ہونے کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھ جائے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا ناپسندیدہ ہے۔
قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کے سبب ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

