میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“ اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
جويریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“ اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
تشریح
یعنی اتنی زیادہ تسبیح جو اس کی مخلوق کے بقدر ہو جس کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اتنی عظیم تسبیح جو اللہ کو راضی کردے اور اتنی بھاری تسبیح جو عرش کے وزن کے برابر ہو اگر عرش کوئی محسوس ہونے والی شے ہوتا اور ایسی تسبیح جو ہمیشہ جاری رہے اور جس میں کبھی انتقطاع نہ آئے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

