HadeethEnc · 1.36.0
اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستوں ميں بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولﷺ! ان مجلسوں کے بغیر تو چارہ نہیں کیوں کہ ہم انہی میں ہی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
02
Explanation
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو راستوں میں بیٹھنے سے ڈرایا۔ وہ کہنے لگے کہ اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر تم نہیں رکتے اور تمہارے بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں تو پھر تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم راستے کو اس کا حق دو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ راستے کا حق یہ ہے کہ وہ ان عورتوں سے اپنی نگاہیں پست رکھیں جو ان کے سامنے سے گزرتی ہیں، راہ گیروں کو قول و فعل کے ذریعے سے ایذاء نہ دیں، جو انہیں سلام کرے اس کے سلام کا جواب دیں، اچھی بات کی تلقین کریں اور اپنے سامنے جب کوئی برا کام ہوتے دیکھیں تو اس صورت میں ان پر واجب ہے کہ وہ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کریں۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

