اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"
Explanation
Benefits
دعا کرنے والا جب آداب دعا کا اہتمام کرے، دعا قبول ہونے کی جگہوں اور اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے دعا کرے، اللہ کی نافرمانی سے دور رہے، شک و شبہ کی جگہوں پر قدم رکھنے سے اجتناب کرے اور اللہ سے حسن ظن رکھے، تو اس بات کی توقع ہے کہ اللہ کی اجازت سے اس کی دعا قبول ہو۔
مناوی دعا قبول ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : دعا قبول اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی شرطوں، ارکان اور آداب كا کیا خیال رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی چيز کا خیال نہ رکھا گیا، تو دعا قبول نہ ہونے کا ذمے دار انسان خود ہے۔
دعا قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو انسان کو اس کی مانگی ہوئی چيز دے دی جائے یا اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دی جائے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع کر کے رکھ دیا جائے۔ ان سب باتوں کا انحصار اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

