افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5457[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ عزو جل کے اس قول کی تلاوت فرمائی: ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”اے رب! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے وہ میرے ہیں“۔ (سورہ ابراھیم: 36)۔ اور عیسی علیہ السلام کے قول کا تلاوت فرمایا کہ: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُم فَإِنَّهُم عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُم فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ﴾ ”اگر تو ان کوعذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے“۔ (سورہ مائدہ: 118)
اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی: اے اللہ! میری امت کو بخش دے، میری امت کو بخش دے۔ اوررو دیے۔ اس پر اللہ عز و جل نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کس بات کی وجہ سے وہ روئے ہیں؟، اگرچہ تیرا رب اس سے بہتر طور پر باعلم ہے۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے الفاظ میں، جنہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے، انہیں وجہ بتا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
02

Explanation

نبی ﷺ نے ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت فرمائی جو بتوں کے بارے میں ہے کہ ﴿رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”اے رب! یہ بت بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہیں، پس ان لوگوں میں سے جنہوں نے میری اطاعت قبول کی ہے وہ میرے ہیں“۔ (سورہ ابراھیم: 36)۔ اور اسی طرح عیسی علیہ السلام کے قول کی بھی تلاوت فرمائی کہ ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُم فَإِنَّهُم عِبَادَكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُم فَإِنَّكَ أَنْتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ﴾ ”اگر تو ان کوعذاب میں مبتلا کرے تو بہرحال وہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے“۔ (سورہ مائدہ: 118)، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اوررو پڑے۔ آپ ﷺ دعا مانگ رہے تھے کہ: "يا رب؛ أمتي أمتي" یعنی ان پررحم کر اور انہیں معاف کردے۔ اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ ’’ محمد کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیوں روئے ہیں؟ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ان کے رونے کا سبب خوب معلوم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے الفاظ میں اپنے اس قول یعنی امتی امتی کے بارے میں بتا دیا اور اللہ ہی کو بہتر علم ہے کہ اس کے نبی نے کیا الفاظ کہے۔ اس پر اللہ عز و جل نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: محمد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم آپ کی امت کے معاملے میں آپ کو خوش کریں گے اورآپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ اللہ عزّ وجلّ نے آپﷺ کو اپنی امت کے سلسلے میں کئی وجوہ کی بنا پر راضی وخوش کر دیا، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ان وجوہات میں سے کچھ یہ ہیں: بہت زیادہ اجرکا ملنا، نبی ﷺ کی امت کے افراد (دنیا میں) آخر میں آنے والے اور روزِقیامت سب سے پہلے ہوں گے اور اس امت کو کئی اعتبار سے دوسری امتوں پر فضیلت حاصل ہے۔

Attribution

[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...