دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔ صحت اور فراغت
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دونعمتیں ایسی ہیں، جن کے بارے میں بہت سارے لوگ (ان کے غلط استعمال کی وجہ سے) خسارے اور گھاٹے میں رہتے ہیں۔ صحت اور فراغت"
Explanation
Benefits
ابن خازن کہتے ہيں: نعمت وہ ہے جس سے انسان لطف اندوز اور لذت یاب ہو۔ جب کہ 'غبن' یہ ہے کہ انسان کسی چيز کو اس کی قیمت سے کئی گنا قیمت میں خریدے یا ثمن مثل سے کم قیمت میں بیچے۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھنے کے بعد جان لیں کہ جس کا جسم تندرست ہو، کندھوں پر مشغولیتوں کا بوجھ نہ ہو اور اس کے باوجود وہ اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کام نہ کرے، تو وہ خرید وفروخت میں 'غبن' کے شکار انسان کی طرح ہے۔
اللہ پاک کا تقرب حاصل کرنے اور خیر وبھلائی کے کام کرنے کے لیے صحت وفراغت سےخوب فائدہ اٹھانا چاہیے، قبل اس کے کہ وہ ہاتھ سے نکل جائیں۔
اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ہے کہ انہیں اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا جائے۔
قاضی اور ابو بکر ابن عربی کہتے ہیں: بندے پر اللہ کی پہلی نعمت کون سی ہے، اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق پہلی نعمت ایمان ہے، کچھ لوگوں کے مطابق حیات ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق صحت۔ پہلا قول زیادہ بہتر ہے، کیوں کہ وہ مطلق نعمت ہے، جب کہ حیات اور صحت دنیوی نعمتیں ہیں اور کوئی نعمت اسی وقت حقیقی نعمت بن سکتی ہے جب ایمان سے جڑی ہوئی ہو۔ ایسے میں اس سلسلے میں بہت سے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ یعنی ان کا نفع ختم ہو جاتا ہے یا گھٹ جاتا ہے۔ جس نے برائی کا حکم دینے والے اور آرام و راحت کی جانب جھکاؤ رکھنے والے نفس کی پیروی کی، حدود اللہ کے اتباع سے گریز کیا اور نیکی کے کاموں میں پابندی برتنے میں سستی دکھائی، وہ گھاٹے میں رہا۔ اسی طرح جب فرصت کے لمحات میسر رہے اور فائدہ نہيں اٹھایا، تو گھاٹے میں رہا۔ کیوں کہ مشغول انسان کے پاس مشغولیت کا عذر ہوا کرتا ہے، جس کی بنا پر اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

