”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جندب بن عبداللہ قَسری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی پناہ میں آگیا۔ لہذا یہ موقع نہ آنے پائے کہ اللہ کی ذمہ داری میں کسی طور خلل انداز ہونے کی وجہ سے وہ تمہارے درپے ہو جائے۔ اگر اللہ اپنی ذمہ داری میں خلل انداز ہونے پر کسی کے درپے ہو جائے، تو اسے وہ بالآخر پکڑ ہی لیتا ہے اور اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیتا ہے“۔
Explanation
پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عہد کو توڑنے سے منع کیا، جس کی ایک شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز چھوڑ دی جائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھنے والے کو تکلیف پہنچائی جائے یا اس پر دست درازی کی جائے۔ کیوں کہ جس نے ایسا کیا، اس نے اس دیوار کو توڑا اور اس سخت وعید کا مستحق ہو گیا کہ اللہ اسے اپنے حق میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے طلب کرے گا اور جسے اللہ طلب کرے گا، اسے وہ پا ہی لے گا اور پھر اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔
Benefits
اس حدیث میں فجر کی نماز پڑھنے والے کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔
اللہ اپنے نیک بندوں کو ایذا پہنچانے والوں سے انتقام لیتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

