”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کسی سے تمھارا آمنا سامنا ہو جائے، تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“۔
Explanation
Benefits
اگر وہ سلام کر دیں، تو ان کا جواب "و علیکم" کہہ کر دینا جائز ہے۔
کسی مسلمان کے لیے جان بوجھ کر کسی کافر کو بلا وجہ اذیت دینا کہ اس کا راستہ تنگ کر دے، جائز نہيں ہے۔ لیکن اگر راستہ تنگ ہو یا بھیڑ بھاڑ ہو، تو اس میں چلنے کا حق مسلمان کا زیادہ ہے۔ ایسے میں کافر کنارے ہو جائے گا۔
ظلم یا بد زبانی کے بغیر مسلمانوں کی عزت اور دوسروں کی ذلت کا اظہار۔
اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے کافروں پر تنگی کرنا‘ ہو سکتا ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کا سبب بن جائے۔ چنانچہ وہ سبب سے واقف ہونے کے بعد جہنم سے نجات پا جائيں۔
ضرورت ہو تو پہل کرکے کسی کافر سے یہ سوالات پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ کیسے ہیں، آپ کی صبح کیسی رہی، آپ کی شام کیسی رہی‘ کیوں کہ منع صرف سلام کرنے سے کیا گیا ہے۔
طیبی کہتے ہیں: اختیار کردہ مسئلہ یہ ہے کہ بدعتی کو بھی سلام کرنے میں پہل نہ کیا جائے۔ اگر کسی نے ایسے شخص کو سلام کر دیا، جسے پہچانتا نہ ہو اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ ذمی یا بدعتی ہے، تو اس کی تحقیر کے لیے کہہ دے کہ میں نے سلام واپس لے لیا۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

