افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5345[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ايک سفر ميں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک منزل پر قيام کيا، ہم ميں سے بعض اپنے خيمے درست کر رہے تھے، بعض تيراندازی ميں مقابلہ کررہے تھے اور بعض اپنے مويشيوں ميں لگے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: ’’نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔‘‘ ہم سب رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے جو بھی نبی ہوا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ايسے کاموں کی طرف کرے جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتا ہے۔ اور ان کو ان کاموں سے ڈرائے جن کو وہ ان کے لیے برا جانتا ہے۔ اور تمہاری اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھ دی گئی ہے اور اس کے آخری حصے ميں آزمائش اور ايسے معاملات پيش آئیں گے جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسے فتنے ظہور پذير ہوں گے جو ایک دوسرے کو معمولی بنا دیں گے۔ ايک فتنہ سامنے آئے گا تو مومن کہے گا: یہی ميری ہلاکت کا باعث ہو گا۔ پھر وہ دور ہو جائے گا۔ پھر (کوئی اور) فتنہ ظہور پذير ہو گا تو مومن کہے گا: یہی سب سے بڑا فتنہ ہے۔ پس جس شخص کو يہ پسند ہو کہ وہ جہنم کی آگ سے دور کرديا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، تواس کو موت اس حالت ميں آنی چاہیے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ کئے جانے کو پسند کرے، اور جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔”
02

Explanation

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والوں پر بھی وہی لازم ہے جو انبیاء پر لازم تھا یعنی اچھائی کو بیان کرنا، اس کی ترغیب دینا، اس کی طرف لوگوں کى راہنمائی كرنا، اور برائی کی وضاحت کرنا اور اس سے ڈرانا۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ اس امت کا ابتدائی حصہ تو خیر میں رہا اور آزمائش سے محفوظ رہا ليکن اس امت کے آخری حصے کو اس طرح شر اور آزمائش پیش آئے گی کہ آنے والے فتنے پہلے کے فتنوں کو معولی اور ہلکا بناديں گے اور ان سے نجات توحید کے اقرار، سنت کی پیروی، لوگوں سے حسن سلوک اور حاکم کی بیعت کی پابندی, اس کے خلاف عدم بغاوت اور ہر اس شخص سے قتال کے ذريعہ ہی ممکن ہوگی جو مسلمانوں کی جماعت کا شیراہ بکھیرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

Attribution

[اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...