”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں"۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ حقوق کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "جب اس سے ملو، تو اسے سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرو، جب تم سے مشورہ مانگے تو اسے اچھا مشورہ دو، جب چھینکے اور ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہے تو اس کا جواب دو (یعنی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہو)، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ چلو“۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں"۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ حقوق کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "جب اس سے ملو، تو اسے سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرو، جب تم سے مشورہ مانگے تو اسے اچھا مشورہ دو، جب چھینکے اور ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہے تو اس کا جواب دو (یعنی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہو)، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ چلو“۔
Explanation
Benefits
سلام جب فرد معین کو کیا جائے تو جواب دینا فرض عین ہوگا اور جماعت کو کیا جائے تو کسی ایک شخص کا جواب دینا کافی ہوگا۔ لیکن آغاز میں سلام کرنا سنت ہے۔
بیمار کی عیادت کرنا بیمار کے ان حقوق میں سے ہے جو مسلمان بھائیوں پر عائد ہوتے ہیں، کیوں کہ اس سے بیمار شخص کو مسرت اور انسیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ فرض کفایہ ہے۔
دعوت قبول کرنا واجب ہے، جب تک وہاں کوئی گناہ کا کام نہ ہو رہا ہو۔ دعوت اگر ولیمے کی ہو تو جمہور کے مطابق اسے قبول کرنا واجب ہے۔ ہاں، کوئی شرعی عذر ہو تو بات الگ ہے۔ اگر ولیمے کے علاوہ کسی اور مناسبت کی دعوت ہو تو جہمور کے مطابق اسے قبول کرنا مستحب ہے۔
چھینکنے والا جب الحمد للہ کہے تو سننے والے پر یرحمک اللہ کہنا واجب ہے۔
اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے، جس نے سماجی بندھن کو مضبوط کرنے اور ان کے بیچ پیار ومحبت کو استوار کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔
"فَسَمِّتْهُ" بعض نسخوں میں "فشمّته" درج ہے۔ دونوں کے معنی ہیں: خیر وبرکت کی دعا کرنا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ "تشمیت" کے معنی ہیں: اللہ تمھیں جگ ہنسائی سے دور رکھے اور ہر اس چیز سے بچائے جس سے دشمن کو ہنسنے کا موقع ملے۔ جب کہ "تسمیت" کے معنی ہيں: اللہ تمھیں صحیح راستے پر گام زن کرے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

