برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "برے گمان سے بچو، کیوں کہ برا گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ کسی کی چھپی ہوئی باتوں کو دیکھنے اور سننے کی کوشش مت کرو، کسی کی کمیوں کوتاہیوں کے پیچھے نہ پڑو، ایک دوسرے سے حسد مت کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، ایک دوسرے سے کینہ کپٹ نہ رکھو اور اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔"
Explanation
"الظن" : دل میں آنے والا ایسا برا خیال جس کی کوئی دلیل نہ ہو۔ آپ نے بتایا ہے کہ یہ سب سے بڑی جھوٹی باتوں میں سے ہے۔
"التَّحَسُّس" : آنکھ یا کان کے ذریعے لوگوں کی چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔
"التَّجَسُّس" : چھپی ہوئی باتیں تلاش کرنا۔ اس لفظ کا استعمال اکثر برائی کی ٹوہ میں پڑنے کے لثیے ہوتا ہے۔
"الحسد" : دوسروں کو نعمت ملے، اس بات کو ناپسند کرنا۔
"التدابر" : لوگ ایک دوسرے سے ملیں اور کنی کاٹ کر نکل جائيں۔ نہ سلام کلام ہو اور نہ ایک دوسرے سے میل جول رکھیں۔
"التباغض" : ایک دوسرے کو ناپسند کرنا اور ایک دوسرے سے نفرت کرنا۔ مثلا دوسروں کو اذیت دینا، کسی کو دیکھ کر منہ بنانا اور اچھے سے نہ ملنا۔
اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی جامع بات کہی، جس سے مسلمانوں کے آپسی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ فرمایا : "اللہ کےبندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔" دراصل اخوت ایک ایسا رابطہ ہے، جس سے لوگوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور پیار ومحبت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Benefits
یہاں مقصد اس برے گمان سے دور رکھنا ہے، جو دل میں بیٹھ جائے اور نکلنے کا نام نہ لے۔ جہاں تک ایسے برے گمان کی بات ہے، جو دل میں آئے اور ٹھہرے بغیر نکل جائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
کسی کی برائی کی ٹوہ میں رہنا اور حسد وغیرہ یہ ساری چیزیں حرام ہیں، جو مسلم سماج کے افراد کے بیچ آپسی نفرت اور قطع تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
اس بات کی وصیت کہ ایک مسلمان کے ساتھ بھائی جیسا معاملہ کرتے ہوئے اس کی خیر خواہی کرنی چاہیے اور اس سے محبت رکھنی چاہیے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

