میں آپ ﷺ کے ساتھ رہا، آپ ﷺ سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، اسی طرح حضرت ابوبکر، عُمر اور عثمان بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
متن حدیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ رہا، آپ ﷺ سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے، اسی طرح حضرت ابوبکر، عُمر اور عثمان بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔
تشریح
سفر میں پوری نماز پڑھنی جائز ہے، تاہم قصر کرنا افضل ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ﴿لَيْسَ عَليكُمْ جُنَاحٌ أن تَقصُرُوا مِنَ الصَّلاَةِ﴾ ” تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناه نہیں“۔ جناح (گناہ) کی نفی کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں رخصت ہے عزیمت نہیں۔ دوسرے اس لیے کہ اصل اتمام ہے۔ اور قصر اس چیز میں ہوتا ہے جو اس سے زیادہ طویل ہو۔
اور مسافر کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے، اور اس لیے کہ اللہ تعالی اس کی دی ہوئی رخصتوں پر عمل کرنے کو پسند فرماتا ہے اور جو قصر کو واجب کہتے ہیں ان کے اختلاف سے بچنے کے لیے قصر نماز نہ چھوڑے۔ تیسرے اس لیے بھی قصر نہ چھوڑے کہ اکثر علماء کے ہاں یہی افضل ہے۔
Attribution
زمرے
حدیث شیئر کریں
Sharing options

