HadeethEnc · 1.36.0
ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ آدمی دوران نماز اپنے بغل والے شخص سے بات کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو“ اس کے بعد ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا اور بات چیت سے روک دیا گیا۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوۓ کہتے ہیں: ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔ آدمی دوران نماز اپنے بغل والے شخص سے بات کرلیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ﴿وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو“ اس کے بعد ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا اور بات چیت سے روک دیا گیا۔
02
Explanation
نماز بندے اور رب کے مابین ایک تعلق کا نام ہے۔ چنانچہ یہ مناسب نہیں کہ نمازی اس حال میں اللہ کے ساتھ مناجات کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول ہو۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ابتداے اسلام میں لوگ نماز میں حسب ضرورت بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ مثلا کوئی شخص اپنی ضرورت کے بارے میں اپنے پہلو میں موجود شخص سے بات کر لیا کرتا تھا اور نبی ﷺ یہ سب سن رہے ہوتے، لیکن اس سے منع نہ فرماتے۔
لیکن چوں کہ نماز حالت میں بندے کی اللہ سے ہم کلامی میں انہماک، اس لیے مخلوق سے ہم کلام ہونے کی گنجائش باقی نہیں رکھتی، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ مسلمان نماز کو دوسری آلائشوں سے بچائیں، چپ رہیں اور بات چیت نہ کریں۔ چنانچہ یہ آیت نازل فرمائی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ ”نمازوں کی حفاﻇت کرو بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو“۔ چنانچہ صحابۂ کرام کو معلوم ہو گیا کہ انھیں نماز میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے؛ اس لیے انھوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ رضی اللہ عنہم۔
لیکن چوں کہ نماز حالت میں بندے کی اللہ سے ہم کلامی میں انہماک، اس لیے مخلوق سے ہم کلام ہونے کی گنجائش باقی نہیں رکھتی، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ مسلمان نماز کو دوسری آلائشوں سے بچائیں، چپ رہیں اور بات چیت نہ کریں۔ چنانچہ یہ آیت نازل فرمائی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ ”نمازوں کی حفاﻇت کرو بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو“۔ چنانچہ صحابۂ کرام کو معلوم ہو گیا کہ انھیں نماز میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے؛ اس لیے انھوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ رضی اللہ عنہم۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

