افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5141[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ“۔ (اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عظمت والا اور بُردْبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور مقام وشرف والے عرش کا رب ہے۔)
02

Explanation

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت پریشانی اور شدید غم واندوہ کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ «العظيم» وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم مرتبے اور بڑی شان والا ہے۔ «الحليم» وہ بردبار ہے، جو کسی نافرمان بندے کو فورا سزا نہیں دیتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ کبھی کبھی تو معاف بھی کر دیتا ہے۔ جب کہ اس کے پاس سزا دینے کی پوری طاقت موجود ہے۔ کیوں کہ وہ پروردگار سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ «لا إله إلا الله رب العرش العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں، جو عرش عظیم کا خالق ہے۔ «لا إله إلا الله رب السموات والأرض» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں، جو آسمانوں اور زمین کا رب وخالق اور ان کے اندر موجود تمام چیزوں کا خالق، مالک، مصلح اور اپنی مشیت سے ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ «رب العرش الكريم» جو عرش عظیم کا خالق ہے۔
03

Benefits

مصیبتیں اور پریشانیاں آنے پر اللہ سے لو لگانا اور دعا کرنا واجب ہے۔
پریشانی کے وقت یہ دعا کرنا مستحب ہے۔
رحمن کا عرش، جس پر وہ مستوی ہے، سب سے بلند، سب سے بڑی اور سب سے عظیم مخلوق ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے عظیم اور کریم سے متصف کیا ہے۔
یہاں بطور خاص آسمانوں اور زمین کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ہمیں نظر آنے والی عظیم ترین مخلوقات میں سے ہیں۔
طیبی کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حمد وثنا کا آغاز رب کے ذکر سے کیا، تاکہ پریشانی کو دور کرنے کے ساتھ مناسبت رہے، کیوں کہ یہی تربیت کا تقاضا ہے۔ اس میں توحید پر مشتمل تہلیل ہے جو اللہ کو تمام کمیوں اور عیوب سے پاک کرنے کی اصل بنیاد ہے، عظمت کا بیان ہے جو اللہ کی قدرت تامہ پر دلالت کرتی ہے، حلم وبردباری کا ذکر ہے جو علم پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ کسی جاہل کے اندر علم اور کرم جیسے اوصاف کے پائے جانے کا تصور نہيں کیا جا سکتا، جب کہ یہ دونوں صفات اوصاف کریمہ کی بنیاد اور اصل ہیں۔

Attribution

[متفق عليه]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...