افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#5037[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

وائل حضرمی کہتے ہیں کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اگر ہم پر ایسے حکمراں مسلط ہو جائیں، جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں، لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں، تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے ان سے اعراض کیا۔ انھوں نے دوبارہ سوال کیا، تو بھی آپ ﷺ نے ان کى بات پر توجہ نہ دی، انہوں نے پھر سوال کیا دوسرى بار یا تیسری بار تو ان کو اشعث بن قیس نے کھینچ لیا، اور آپﷺ نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔
02

Explanation

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے حکمرانوں کے بارے میں پوچھا گيا، جو لوگوں سے اپنی بات ماننے اور پیروی کرنے کا مطالبہ کرتے ہيں، لیکن انصاف کرنے، مال غنیمت دینے، ظلم سے بچانے اور برابری کا معاملہ کرنے جیسے اپنے اوپر عائد ہونے والے لوگوں کے حقوق ادا نہيں کرتے۔ ایسے میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟

یہ سوال سننے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سائل سے منہ پھیر لیا۔ ایسا لگا کہ آپ کو یہ سوال پسند نہيں آیا۔ لیکن سائل اپنا سوال دوسری بار اور پھر تیسری بار دوہراتا رہا۔ یہ دیکھ کر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے خاموش کرنے کے لیے سائل کو کھینچا۔

لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کا جواب دے دیا۔ فرمایا : تم ان کی بات سنو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ کیوں کہ ان کو عدل و انصاف کرنے اور عوام کو ان کا حق دینے جیسی ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو ان کے سر پر ڈالی گئی ہيں اور تمہیں اطاعت گزاری، حقوق کی ادائیگی اور آزمائش کے موقع پر صبر جیسی ان ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو تمھارے سر پر ڈالی گئی ہيں۔
03

Benefits

اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں حکمرانوں کی بات سنی جائے گی اور ان کی اطاعت ہر حال میں کی جائے گی، خواہ وہ رعیت کا حق ادا نہ بھی کرتے ہوں۔
حکمرانوں کی جانب سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں ہونے والی کوتاہی اس بات کی اجازت نہيں دیتی کہ عوام بھی اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے لگیں۔ کیوں کہ ہر انسان سے خود اس کے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور خود اس کی کوتاہی کا مؤاخذہ ہوگا۔
دین کی بنیاد جیسے کو تیسا کے اصول پر نہیں، بلکہ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے پر ہے۔ خواہ سامنے والا شخص اپنی ذمے داری کی ادائیگی میں کوتاہی ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ یہی بات اس حدیث میں کہی گئی ہے۔

Attribution

[رواه مسلم]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...