اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی بھی اسے صبر کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملتی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔
Explanation
آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جو شخص اللہ کے پاس اس کے لیے جو کچھ ہے اس کی بنا پران اشیا سے بے نیازی اختیار کرتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں تو اللہ عز و جل اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اصل بے نیازی تو دل کی بے نیازی ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی بنا پر لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بے نیازی برتتا ہے تواللہ بھی اسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اوراسے عزت نفس رکھنے والا شخص بنا دیتا ہے جو مانگنے سے دور رہتا ہے۔جو بندہ ان عورتوں سے اپنے آپ کو باعفت رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس پر حرام ہیں تو اللہ بھی اسے باعفت بنا دیتا ہے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اللہ صبر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر جو عنایات ہوتی ہیں جیسے رزق و غیرہ، ان میں سے کوئی بھی صبر سے بہتر اور اس سے بڑی نہیں ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

