HadeethEnc · 1.36.0
”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے“۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے پڑوسی کے (حق کے) بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے“۔
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جبریل آپ کو پڑوسی، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اور رشتے دار ہو یا غیر رشتے دار، کا خیال رکھتے ہوئے اس کے حقوق ادا کرنے، اسے تکلیف نہ پہنچانے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور اس کی جانب سے دی جانے والی اذیت پر صبر کرنے کا حکم اس طرح بار بار دیتے رہے کہ آپ کو اس تاکید اور تکرار سے یہ لگنے لگا کہ آپ پر ایسی وحی اترنے والی ہے، جس میں میت کے چھوڑے ہوئے مال میں پڑوسی کو حصے دار بنانے کی بات ہو۔
03
Benefits
پڑوسی کا غیر معمولی حق اور اس کا دھیان رکھنے کی ضرورت۔
پڑوسی کے حق کی تاکید کے ساتھ وصیت کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی عزت کی جائے، اس سے محبت رکھی جائے، اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، اسے تکلیف سے بچایا جائے، بیمار ہونے پر اس کی تیمار داری کی جائے، خوشی کے موقعے پر اسے مبارک باد دی جائے اور مصیبت کے وقت اس کی غم گساری کی جائے۔
پڑوسی کا دروازہ جتنا قریب ہوگا، اس کا حق اتنا بڑھ جائے گا۔
شریعت اسلامیہ ایک مکمل شریعت ہے، جس میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کو تکلیف سے بچانے جیسی سماج کو خوش گوار بنانے والی تعلیمات دی گئی ہيں۔
پڑوسی کے حق کی تاکید کے ساتھ وصیت کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی عزت کی جائے، اس سے محبت رکھی جائے، اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، اسے تکلیف سے بچایا جائے، بیمار ہونے پر اس کی تیمار داری کی جائے، خوشی کے موقعے پر اسے مبارک باد دی جائے اور مصیبت کے وقت اس کی غم گساری کی جائے۔
پڑوسی کا دروازہ جتنا قریب ہوگا، اس کا حق اتنا بڑھ جائے گا۔
شریعت اسلامیہ ایک مکمل شریعت ہے، جس میں پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کو تکلیف سے بچانے جیسی سماج کو خوش گوار بنانے والی تعلیمات دی گئی ہيں۔
Attribution
[متفق عليه]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

