”بنی اسرائیل کی رہ نمائی انبیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا نبی بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ البتہ میرے بعد خلفا ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو حازم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے پانچ سال تک ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی کا موقع ملا۔ میں نے ان سے سنا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی رہ نمائی انبیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا نبی بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ البتہ میرے بعد خلفا ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے“۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ان کے بارے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے پہلے بیعت کرو، اس کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کى بیعت پروى کرو۔ انہیں ان کا حق ادا کرو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جن کا والی بنایا یے، ان کی بابت وہ خود ان سے پوچھ لے گا“۔
Explanation
Benefits
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔
اس حدیث میں کسی ایسے شخص کے خلاف بغاوت کرنے سے خبردار کیا گیا ہے، جس کی حکمرانی شرعی طریقے سے ثابت ہو گئی ہو۔
ایک ہی وقت میں دو خلیفوں سے بیعت جائز نہیں ہے۔
امام کے اوپر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیوں کہ اللہ تعالی اس سے اس کے رعایا کے بارے میں باز پرس کرے گا۔
ابن حجر کہتے ہيں: دینی معاملات کو دنیوی معاملات پر مقدم رکھا جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکمراں کا حق ادا کرنے کا حکم اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیا کہ اس سے دین کی سربلندی اور فتنہ و فساد کی سرکوبی ہوتی ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ حق کے مطالبے کے حکم کو موخر کر دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حق ساقط ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ خود اللہ نے اسے اس کا پورا حق دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اخروی زندگی ہی میں سہی۔
یہ حدیث محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے نبی ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے۔ کیوں کہ آپ کے بعد بہت سے خلفا ہوئے۔ ان میں کچھ اچھے بھی اور کچھ برے بھی۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

