ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ جب جمعے کا دن آیا، تو نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے نے ایک چیخ ماری، جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھٹ ہی جاتا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس نے بچے کی طرح چلانا شروع کر دیا ۔ اس پر نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ اس بچے کی طرح سسکیاں بھرنا شروع ہو گیا، جسے چپ کرایا جا رہا ہو، یہاں تک کہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس ذکر (سے محروم ہونے) کی وجہ سے رویا ہے، جسے یہ سنا کرتا تھا۔
Explanation
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

