نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔
Explanation
”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔
”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔
”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔
”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔
”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

