’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
Explanation
Benefits
توبہ کا یہ حکم عام ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب سے ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سے۔
توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
نووی کہتے ہيں: توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آنا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم وشرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق تک لوٹانا یا پھر صاحب حق سے معافی وتلافی کرانا ضروری ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

