”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔“
Explanation
Benefits
کھانے کا مقصد صحت اور طاقت کو برقرار رکھنا ہے جو زندگی کی بنیاد ہیں۔
پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بہت سے جسمانی اور دینی نقصانات ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تم پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے بچو۔ کیوں کہ یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہے اور نماز میں سستی پیدا کرتا ہے۔"
حکم کے اعتبار سے کھانے کی کئی قسمیں ہوا کرتی ہیں۔ اتنا کھانا واجب ہے، جس سے جان بچی رہے اور جسے ترک کرنا نقصان کا باعث ہو۔ قدر واجب سے زیادہ اور اتنا کھانا جائز ہے، جس سے نقصان ہونے کا ڈر نہ ہو۔ اتنا کھانا مکروہ ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا ڈر ہو۔ اتنا کھانا حرام ہے کہ جس سے نقصان ہونے کا یقین ہو۔ اتنا کھانا مستحب ہے کہ جس سے اللہ کی عبادت اور نیکی کے کاموں میں تعاون ملے۔ زیر بحث حدیث میں ان تمام باتوں کو مختصر انداز میں درج ذیل تین مراتب میں بیان کر دیا گیا ہے: 1- پیٹ بھر کر کھانا کھانا۔ 2- اتنا کھانا کھانا کہ پیٹھ کھڑی رہ سکے۔ 3۔ جب کہ تیسرے مرتبے کو درج ذیل الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے: "پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے ہو، ایک تہائی پانی پینے کے لیے ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے خالی رہے۔" لیکن یہ ساری باتیں اس وقت ہیں، جب کھائی جانے والی چیز حلال ہو۔
یہ حدیث طب کے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ علم طب کے بنیادی اصول تین ہیں: صحت کی حفاظت کرنا، احتیاط برتنا اور علاج کرنا۔ جب کہ اس حدیث میں پہلے دونوں اصول موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالی بھی ہے: (اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے مت نکلو۔ بے شک اللہ حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔)
اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے، جس میں انسان کے دینی ودنیوی دونوں طرح کے مصالح کا خیال رکھا گیا ہے۔
شرعی علوم ہی کا ایک حصہ علم طب کی بنیادی باتیں اور اس کے مختلف حصے ہيں۔ جیسا کہ شہد اور کلونجی کے بارے میں آیا ہے۔
شرعی احکام کے اندر بڑی حکمتیں پائی جاتی ہيں۔ تمام شرعی احکام نقصانات کو روکنے اور منافع کو حاصل کرنے پر مبنی ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

