HadeethEnc · 1.36.0
جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
ابو الحوراء سعدی کہتے ہیں : میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا یاد کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ یاد کیا ہے : "جو چيز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔ کیوں کہ سچائی اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔"
02
Explanation
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے اقوال و اعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔ کیوں کہ ان سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔ جب کہ شک و شبہ والی چيزیں انسان کے دل کو بے چین اور مضطرب رکھتی ہیں۔
03
Benefits
مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے تمام معاملات کی بنیاد یقین پر رکھے اور بصیرت وآگہی کے ساتھ دین پر عمل کرے۔
مشتبہ چيزوں میں پڑنے کی ممانعت۔
اگر آپ اطمینان اور آرام چاہتے ہیں تو مشکوک چیزوں کو ترک کر دیں اور ان سے دامن کش ہوجائیں۔
اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحیم ومہربان ہے، بایں طور کہ اس نے انہیں ایسے کاموں کا حکم دیا ہے جن سے ذہن ودل کا سکون حاصل ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے بے قراری اور حیرانگی پیدا ہوتی ہے۔
مشتبہ چيزوں میں پڑنے کی ممانعت۔
اگر آپ اطمینان اور آرام چاہتے ہیں تو مشکوک چیزوں کو ترک کر دیں اور ان سے دامن کش ہوجائیں۔
اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحیم ومہربان ہے، بایں طور کہ اس نے انہیں ایسے کاموں کا حکم دیا ہے جن سے ذہن ودل کا سکون حاصل ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے بے قراری اور حیرانگی پیدا ہوتی ہے۔
Attribution
[رواه الترمذي والنسائي وأحمد]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

