”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”پہلے کے انبیا علیہم السلام کے کلام سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تیرے اندر شرم و حیا نہ رہے، تو جو چاہے کر۔“
Explanation
Benefits
حیا انبیا کے اوصاف میں سے ایک وصف اور انھیں سے منقول ہے۔
حیا ایسی چيز ہے، جو ایک مسلمان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتی ہے، جو اس کی شخصیت کو خوب صورت بناتی اور ایسے کاموں سے دور رکھتی ہے جو اس کی شخصیت کو مجروح کرتے ہوں۔
نووی کہتے ہيں : یہاں حکم اباحت پر محمول ہے۔ مطلب یہ ہےکہ جب تم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرو، تو کام اگر ایسا ہو کہ اسے کرتے وقت اللہ اور لوگوں سے حیا نہ آتی ہو، تو کر ڈالو۔ لیکن اگر حیا آتی ہو، تو مت کرو۔ اسی پر اسلام کا دار و مدار ہے۔ اسے اس طرح سمجھیں کہ جن واجب اور مستحب کاموں کا حکم ہو، انھیں چھوڑنے میں حیا کی جاتی ہے اور جن حرام اور مکروہ چیزوں سے منع کیا گیا ہو، انھیں کرنے میں حیا کی جاتی ہے۔ جب کہ مباح کام کو کرنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے اور چھوڑنے میں حیا کرنا بھی جائز ہے۔ اس طرح اس حدیث کے دائرے میں پانچوں احکام آ گئے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں دیا گیا حکم تہدید آمیز ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تم سے حیا کی دولت چھن جائے، تو جو جی میں آئے کرو، اللہ تم کو ضرور اس پر سزا دے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں حکم خبر کے معنی میں ہے۔ یعنی جسے حیا مانع نہ ہو، وہ جو چاہتا ہے، کرتا پھرتا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

