میرے بھائی داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے- سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تک میری یہ بات پہنچائی گئی کہ اللہ کی قسم! میں زندگی بھر دن میں روزے رکھوں گا اور ساری رات عبادت کروں گا، لہٰذا آپ ﷺ نے کہا: تم ہی ہو وہ شخص، جس نے یہ بات کہی ہے؟، میں نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔ رات کو قیام بھی کر اور سو بھی جا اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر؛ کیوںکہ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ :میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا اور روزے کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ میرے پاس اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزے -آدھے سال کے روزے رکھنا-سے زیادہ روزہ جائز نہیں۔ ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
Explanation
لیکن انھوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ آپ ﷺ سے مزید روزوں کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ روزہ رکھنے کے افضل ترین طریقے پر یہ بات موقوف ہوگئی۔ روزہ رکھنے کا افضل ترین طریقہ داؤد علیہ السلام کا تھا؛ کیوں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن کا روزہ چھوڑ دیتے تھے۔
تاہم خیر و بھلائی کی شدید خواہش کی بنا پر صحابی رسول ﷺ نے مزید روزوں کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

