مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
Explanation
1- ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
2- ہر روز چاشت کی دو رکعت نماز نماز پڑھنے کی۔
3- سونے سے پہلے وتر کی نماز پڑھنے کی۔ یہ وصیت بطور خاص اس شخص کے لیے ہے، جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکے گا۔
Benefits
ابن حجر عسقلانی ہر مہینے تین دن کے روزے کی وصیت کے بارے میں کہتے ہیں : بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان روزوں سے مراد ایام بیض یعنی ہجری مہینے کے تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں دن کے روزے ہیں۔
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں : اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر کی نماز سونے سے پہلے پڑھ لینا مستحب ہے۔ لیکن یہ اس کے حق میں ہے، جسے جاگ پانے کا بھروسہ نہ ہو۔
ان تینوں اعمال کی اہمیت۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی ساتھیوں کو ان کی وصیت کی ہے۔
ابن دقیق العید چاشت کی دو رکعتوں کے بارے میں کہتے ہیں : شاید آپ نے کم سے کم رکعتوں کا ذکر کیا ہے، جنھیں پڑھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چاشت کی نماز مستحب ہے اور اس کی کم سے کم رکعت دو ہے۔
چاشت کی نماز کا وقت : چاشت کی نماز کا وقت سورج ڈوبنے کے لگ بھگ پندرہ منٹ بعد سے شروع ہوتا ہے اور ظہر کی نماز سے لگ بھگ دس منٹ پہلے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم دو رکعت ہے۔ جب کہ زیادہ سے زیادہ کتنی پڑھی جا سکتی ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں نے آٹھ رکعت کہا ہے اور کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
وتر کی نماز کا وقت : وتر کی نماز کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے فجر طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ یہ نماز کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

