HadeethEnc · 1.36.0
میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد الله بن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میری ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ایک مہینے کے روزے رہ گئے ہیں۔ کیا میں اس کی طرف سے ان کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض واجب الادا ہوتا تو کیا تم اس کی طرف سے اسے ادا کرتے؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے“۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے جواب دیا کہ: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔
02
Explanation
اس حدیث کی دو روایات ہیں اور سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں نہ کہ ایک ہی واقعہ:
پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟
دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔
پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟
دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔
Attribution
[متفق علیہ]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

