افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#4195[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ پنے ایک قرض دار کو ڈھونڈ رہے تھے۔ دراصل وہ چھپتا پھر رہا تھا۔ ایک دن مل گیا، تو کہنے لگا کہ میں تنگ دستی کا شکار ہو چکا ہوں۔ لہذا ابو قتادہ نے پوچھا کہ کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہو کہ تنگ دستی کے شکار ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تنگ دستی کا شکار ہوں۔ چنانچہ ابو قتادہ نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔"
02

Explanation

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ایک شخص کی تلاش میں تھے جس نے ان سے قرض لیا تھا اور ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ آخر کار انہوں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ قرض لینے والے نے کہا: میں تنگ دست ہوں اور میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کوئی مال نہیں ہے۔

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے؟

اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔

بعد ازاں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا:

جسے یہ بات خوش اور مسرور کرتی ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی پریشانیوں، شدتوں اور ہولناکیوں سے نجات دے، وہ تنگدست کی تنگی دور کرے۔ یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دے، یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دے۔
03

Benefits

تنگ دست کو اس کی تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دینا یا اس کے سر پر لدے ہوئے قرض کے بوجھ کو کلی یا جزئی طور پر ہلکا کرنا مستحب ہے۔
جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی بعض سختیوں کو دور کرے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا وہ عمل کرتا ہے۔
قاعدہ: فرائض نوافل سے افضل ہیں۔ لیکن کبھی کبھی نفل فرض سے افضل ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی تنگ دست کے قرض کو معاف کر دینا نفل ہے اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا، فراخی کا انتظار کرنا اور مطالبہ کر کے تنگ نہ کرنا فرض ہے۔ لیکن یہاں نفل فرض سے افضل ہے۔
یہ حدیث تنگ دست کے بارے میں ہے، جو کہ معذور ہے۔ رہی بات ٹال مٹول کرنے والے کی، تو اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مال دار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔"

Attribution

[رواه مسلم]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...