آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر (نكال كر) دیکھے کہ وه سمندر كا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے!
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر(نكال كر) دیکھے کہ وه سمندر كا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے!“
Explanation
اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ﴾ ”سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے“۔
مخلوق کو دنیا کی جو کچھ بھی لذتیں اور نعمتیں دی گئی ہیں، ان سے بندہ ایک مختصر وقت کے لیے لطف اندوز ہوتا ہے جو مکدرات سے بھرا ہوتا ہے۔ فخر اور ریاکاری کے لیے انسان تھوڑے عرصے کے لیے ان سے زیب و زینت اختیار کرتا ہے، پھر یہ سب کچھ جلد ہی فنا ہو جاتا ہے اور محض حسرت و ندامت باقی رہ جاتی ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ”اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف دنیوی زندگی کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے؟“ اللہ کے پاس جو دائمی نعمتیں اور خوشگوار زندگی، محلات اور خوشیاں ہیں وہ اپنی کیفیت و مقدار کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

