کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی بلند آوازیں سنی جن میں سے ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور (کہا کہ) اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔
Explanation
مسند احمد (24405) اور صحیح ابن حبان (5032) میں الفاظ کچھ یوں ہیں: ”اگر تم چاہو تو جتنی رقم کم ہے وہ معاف کردیتا ہوں یا اصل رقم میں سے کچھ کم کردیتا ہوں۔ تو اس نے جو رقم کم تھی وہ معاف کردی“۔
نبی ﷺ نے دو لڑنے والوں میں صلح کی سعی فرمائی، چاہے وہ (قرض کی کچھ رقم) معاف کردینے سے ہو یا (اس میں) نرمی کے ذریعے۔ اور ایک اور حدیث میں اسی طرح کا ایک اور قصہ بھی ہے جس کو امام بخاری (2424) اور امام مسلم (1558) نے بیان کیا ہے۔ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ ان کا عبد اللہ بن أبي حدرد الأسلمي پر کچھ قرض تھا۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے قرض کا مطالبہ کیا جو بحث کی صورت اختیار کرگیا اور ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ نبی ﷺ ان دونوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا- گويا وہ کہہ رہے ہوں آدھا“۔ تو انہوں نے (قرض) کا آدھا حصہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔
پس مسلمان کو چاہیے کہ نیکی کرنے پر حریص ہو اور ایک نیکی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ما بین صلح کرا دی جاۓ۔ پس اگر دو لوگوں، گروہوں یا قبیلوں کے مابین لڑائی جھگڑا اور نفرت دیکھو تو ان کے درمیان صلح کی کوشش کرو تاکہ ہر اس چیز کا خاتمہ ہو سکے جو دوری اور بغض کا باعث ہے۔ اور اس کی جگہ بھائی چارے اور محبت کا راج ہو۔ بے شک اس میں بہت خیر اور خوب ثواب ہے۔ بلکہ یہ عمل دن کو روزہ، رات کو قیام اور صدقہ کرنے سے بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ و خیرات سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ (صحابہ نے عرض کیا) کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (ضرور بتائیں)!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں صلح کرانا“۔ (ابو داود: 4919، شیخ البانی نے صحیح ابو داود میں اس کو صحیح کہا ہے)
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

