ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔“
Explanation
یہ شخص فسادی اور فتنہ انگیز لوگوں میں سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس انداز میں کیا جس کا وہ حق دار تھا اور فرمایا کہ وہ اپنے قبیلہ کا بدترین شخص ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کی فتنہ انگیزی پر متنبہ کرنے کے لئے یہ فرمایا تا کہ وہ اس سے دھوکہ نہ کھا بیٹھیں۔ چنانچہ جب آپ بھی کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو برا اور گمراہ ہو لیکن اس نے اپنی فصاحت کی بدولت لوگوں کو مسحور کر رکھا ہو تواس صورت میں آپ کے لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ شخص برا ہے تاکہ لوگ اس سے دھوکہ نہ کھا لیں۔ کتنے ہی ایسے چرب زبان اور فصیح الکلام لوگ ہوتے ہیں جن کا ڈیل ڈول آپ کو بہت بھاتا ہے اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو اسے آپ بغور سنتے ہیں لیکن ان میں خیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایسے شخص کی حقیقتِ حال کو بیان کرنا واجب ہے۔ باقی رہا آپ ﷺ کا اس شخص کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا تو یہ مدارات (دل رکھنے) کے قبیل سے تھا۔ اہل علم کےنزدیک دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں مدارات ضروری ہے بخلاف مداہنت کے۔ اس سے مراد وہ مداہنت ہے جس کی وجہ سے کسی واجب سے دستبردار ہونا پڑے یا پھر کسی ممنوعہ کام سے چشم پوشی ہو یا کسی حرام کا ارتکاب ہو۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾ [سورة القلم: 9] ”وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں“۔ جب کہ مدارات اور لوگوں کے ساتھ اس انداز میں برتاؤ کرنا جس سے مصلحت کا حصول ہو اور اس سے کوئی برائی بھی مرتب نہ ہوتی ہو تو یہ ایک مشروع عمل ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

