ایک آدمی نے کسی عورت کو بوسہ لے لیا۔ وہ آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کواس کے بارے میں بتایا۔اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کو بوسہ لے لیا۔ (احساس ندامت سے مغلوب ہو کر) وہ آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کواس کے بارے میں بتایا ۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ (هود: 114)۔ ”دن کے دونوں سِروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کئی گھڑیوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“۔ اس شخص نے پوچھاکہ کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میری ساری کی ساری امت کے لیے ہے“۔
Explanation
ایک دوسری روایت میں ہے: کوئی بھی مسلمان اگر کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالی اس کے گناہ کو بخش دیتا ہے۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے قرآنِ پاک کی دو آیتیں تلاوت کیں۔ ﴿وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ ”جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا“۔ ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ...﴾ ” جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں...“۔ (مسند احمد: 47)
یہ بندوں کے ساتھ اللہ تعالی کی رحمت کی کشادگی کی دلیل ہے کہ اُس نے پانچ فرض نمازوں اور نفلی نمازوں کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ہلاک ہوجاتے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

