اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ام ربیع بنت براء جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ مجھے حارثہ کے بارے نہیں بتائیں گے (کہ وہ کس حال میں ہے) -وہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے- اگر تو وہ جنت میں ہے، تو میں صبر کروں اور اگر جنت میں نہیں، تو میں اس پر خوب رؤوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے۔
Explanation
امام احمد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حارثہ دشمنوں کی تاک لگانے والے کے طور پر نکلے۔ (یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اونچی جگہ تلاش کرکے دشمنوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے بارے بتاتے ہیں)۔ اسی درمیان انھيں ایک تیر لگا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ اسی لیے ان کی والدہ نے کہا: اگر وہ جنت میں ہے، تو میں اس پر صبر کروں، یعنی اس کی جدائی پر صبر کروں اور اللہ کے ہاں سے اس پر اجر کی امیدوار رہوں اور اللہ کی راہ میں اس کے مارے جانے اور درجہ شہادت پر فائز ہونے پر خوشی کا اظہار کروں۔
اور اگر وہ جنت میں نہیں، تو پھرمیں خوب رؤوں، کیوں کہ میں نے اسے کھو دیا اور اس نے بلا فائدہ اپنی جان گنوائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں، جیسا کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ: کیا یہ ایک ہی جنت ہے؟ جنتیں تو بہت ساری ہیں اور وہ فردوس اعلی میں ہے۔ اس سے مراد جنت میں ایک مخصوص جگہ ہے، جو جنت کا سب سے افضل اور بلند مقام ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو، تو جنت الفردوس مانگو، یہ جنت کا درمیانی اور سب سے بلند حصہ ہے۔ اس کے اوپر اللہ تعالی کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ جنت کے درمیانی حصے سے مراد اس کا سب سے بہترین، افضل اور سب سے کشادہ حصہ ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

