افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#3574[صحيح]
HadeethEnc · 1.36.0

کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔
02

Explanation

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہ نمائی ایسے اعمال کی جانب کی جائے، جو گناہوں کی بخشش، ان کو انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے رجسٹر سے مٹا دیے جانے اور جنت میں اونچے درجات کے سبب بنتے ہوں؟

صحابہ نے عرض کیا : ضرور رہنمائی فرمائيں۔ آپ نے فرمایا :

1- پریشانی، جیسے ٹھنڈی، پانی کی کمی، جسمانی تکلیف اور پانی گرم ہونے کے باوجود پورے طور پر اور اچھی طرح وضو کرنا۔

2- مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسجد سے گھر دور ہو یا مسجد آنا جانا زیادہ ہو۔ حدیث میں آئے ہوئے لفظ "الخُطا" کے معنی دو قدموں کے درمیان کی دوری کے ہيں۔

3۔ نماز کے وقت کا انتظار کرنا، اس میں دل کا اٹکا رہنا، اس کی تیاری کرنا اور اس کے لیے جماعت کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھا رہنا۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دراصل یہی اعمال حقیقی مرابطہ (دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرے داری) ہیں۔ کیوں کہ یہ نفس کی طرف آنے والے شیطانی راستوں کو بند کرتے ہيں، خواہشات کو مغلوب کرتے ہيں اور نفس کو وسوسے قبول کرنے سے روکتے ہيں۔ اس طرح اللہ کا لشکر شیطان کے لشکر پر فتح یاب ہوتا ہے۔
03

Benefits

مسجد میں نماز باجماعت کی پابندی کرنے، نمازوں کا اہتمام کرنے اور ان سے غفلت نہ برتنے کی فضیلت و اہمیت۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بہترین پیش کش اور اپنے صحابہ کو شوق دلانے کا عمدہ انداز کہ آغاز سوال کے انداز میں ایک بڑے ثواب سے کیا۔ دراصل یہ تعلیم کا ایک کارگر طریقہ ہے۔
سوال و جواب کے ذریعے کسی مسئلے کو پیش کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ کسی بات کو پہلے مبہم طور پر رکھنے اور اس کے بعد اس کی وضاحت کرنے سے بات دل میں نقش زیادہ ہوتی ہے۔
نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہی رباط ہے۔ یعنی یہی وہ رباط ہے، جس کی ترغیب دی گئی ہے۔ رباط کے اصل معنی کسی چیز پر روکے رکھنے کے ہیں۔ اس طرح کے انسان نے گویا خود کو طاعت و بندگی پر روک لیا۔ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ مراد یہ ہو کہ یہی افضل رباط ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: جہاد در اصل نفس سےجہاد کرنا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ممکن اور میسَّر رباط ہو۔ یعنی یہ کام کرنا بھی رباط کی ایک قسم ہے۔
لفظ رباط کا مکرر استعمال کیا گیا ہے اور اس پر "ال" لگایا گیا ہے جو کہ معرفہ بنانے کے لئے ہوتا ہے، تاکہ ان اعمال کی اہمیت وعظمت کو اجاگر کیا جائے۔

Attribution

[رواه مسلم]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...