کیا میں تمہیں جنتیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور متواضع شخص، اگر اللہ پر قسم اٹھا لے، تو اللہ اس کی قسم کی لاج رکھ لے۔ کیا میں تمھیں جہنمیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر تند خو، سرکش وبخیل اور متکبر شخص"۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں جنتیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر کمزور اور متواضع شخص، اگر اللہ پر قسم اٹھا لے، تو اللہ اس کی قسم کی لاج رکھ لے۔ کیا میں تمھیں جہنمیوں کے اوصاف نہ بتاؤں؟ ہر تند خو، سرکش وبخیل اور متکبر شخص"۔
Explanation
اہل جنت کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی جو تواضع کے پیکر، اللہ کے آگے جھکنے والے اور اس اس سامنے فروتنی اختیار کرنے والے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ انھیں کمزور اور کم تر تصور کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کے یہاں ان کی عظمت کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ کے فضل وکرم کی امید میں کوئی قسم کھا لیں، تو اللہ ان کی قسم کی لاج رکھ لے اور ان کے دامن مراد کو بھر دے۔
جب کہ جہنم میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگی، جو «عُتُل» یعنی بدخلق اور جھگڑا لو یا ایسے سرکش ہوں گے، جو خیر کی کوئی بات نہ مانیں۔ «جواظ» یعنی گھمنڈی، پیٹ کے پجاری، بھاری بھرکم جسم والے، اکڑ کر چلنے والے اور بدخلق ہوں گے۔ «مستكبر» یعنی ایسے نک چڑھے جو حق کو ٹھکرا دیں اور دوسرے لوگوں کو کم تر دیکھیں۔
Benefits
تواضع کا اظہار اللہ کے سامنے ہوتا ہے، اس کے اوامر ونواہی اور ان پر عمل کے ذریعہ ہوتا ہے اور مخلوق کے سامنے تواضع اس طرح ہوتا ہے کہ بندہ دوسروں کو کم تر نہ دیکھے۔
ابن حجر کہتے ہيں: اکثر جنتی یہی لوگ ہوں گے، جیسے کہ جہنم کے اکثر لوگ دوسری قسم کے لوگ ہوں گے۔ یہ بتانا مقصود نہيں ہے کہ دونوں جانب بس یہی لوگ ہوں گے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

