جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔
ایک اور روایت میں ہے: ”'تم میں خواب کے اعتبار سے زیادہ سچا وہ ہے جو تم میں بات میں سب سے زیادہ سچا ہے“۔
Explanation
مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ یعنی خواب نبوت کے علم کے اجزاء میں سے ہے بایں طور کہ اس میں غیب کی خبر ہوتی ہے۔ نبوت تو باقی نہیں رہی لیکن اس کا علم باقی ہے۔
چھیالیس کے عدد کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا کیونکہ نبی ﷺ کی مدت عمر زیادہ تر صحیح روایات کے مطابق تریسٹھ سال کی تھی، جس میں نبوت کی مدت تیئیس سال تھی; کیونکہ آپ ﷺ کو اس وقت مبعوث کیا گیا جب آپ پورے چالیس سال کے ہو چکے تھے۔ آپ ﷺ بعثت سے قبل چھ ماہ تک سچے خواب دیکھتے رہے جو صبح کو ایسے حقیقت بنتے جیسے صبح کا تڑکا واضح ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حالت بیداری میں فرشتے کو دیکھا۔ اگر حالت خواب میں آنے والی وحی کی مدت جو کہ چھے ماہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت کی مدت جو کہ تیئیس سال ہے، کی باہمی نسبت کو دیکھا جائے تو چھہ مہینہ تیئیس حصوں کا نصف حصہ بنتا ہے، اور وہی چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں خواب کے اعتبار سے سب سے سچا وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ سچی ہے۔
اس کا معنی یہ ہے کہ جب بندہ اپنی بات میں سچا اور اللہ کے قریب ہوتا ہے تو غالب طور پر اس کا خواب سچ کے قریب تر ہوتا ہے۔ اسی لیے بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ ”نیک شخص کا سچا خواب ...“
البتہ جو شخص بات میں سچا نہیں ہوتا اور وہ ظاہری و باطنی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو عام طور پر اس کا خواب اس کے ساتھ شیطان کے کھلواڑ کے قبیل سے ہوتا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے خواب سچے ہوں تو وہ سچ بولے، حلال کھائے، احکامات وممنوعات کا خیال کرے اور مکمل طہارت کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر سوئے اور اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ نیند اس پر غالب آ جائے، تو ایسے شخص کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے“۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

