جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"
Explanation
Benefits
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سلام کی سنت کو عام کرنے کا بے حد اہتمام کیا کرتے تھے، کیوں کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان محبت والفت پیدا ہوتی ہے۔
سلام کرنے سے مراد "السلام علیکم" یا "السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ" کہنا ہے۔ اس کے اندر مصافحہ، جو پہلی بار ملتے وقت کیا جاتا ہے، شامل نہيں ہے۔
سلام دعا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔ خواہ بار بار ہی کیوں نہ ملاقات ہو۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

