وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
امّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
Explanation
Benefits
حسن سلوک، تواضع اور چھوٹوں کے ساتھ نرمی برتنے، بچوں کی عزت کرکے اور انہیں گود میں بٹھا کر بڑوں کی دل جوئی کرنے، وغیرہ کی ترغیب۔
لڑکے کا پیشاب نا پاک ہے خواہ وہ رغبت کے ساتھ کھانا نہ کھاتا ہو۔
نبی ﷺ کے اس فعل کو نَضْح (چھڑکاؤ) کہا جاتا ہے، یہ اس دودھ پیتے لڑکے کے ساتھ خاص ہے جو ابھی کھانا نہ کھاتا ہو۔ البتہ لڑکی کے پیشاب کو دھونا واجب ہے، چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
شیرخوار لڑکے کے پاخانے کو دیگر ناپاکیوں کی طرح دھونا لازم ہے۔
غسل صرف جسم تک پانی پہنچا دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ غسل کے لیے اس کے علاوہ بھی کچھ کام مشروط ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ نجاست کی جگہ کو فوراً پاک کر لیا جائے، تاکہ ناپاکی سے جلد طہارت حاصل ہو اور انسان اسے بھول نہ جائے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

