HadeethEnc · 1.36.0
جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔ اور میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے عزیز تم ہو ۔اگر مجھ پر کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنا، اپنے بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔جب اگلی صبح ہوئی تو سب سے پہلے شہید وہی تھے۔ میں نے ان کو کسی اور کے ساتھ دفن کر دیا لیکن پھر مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں کسی اور کے ساتھ قبر میں چھوڑے رکھوں لہٰذا میں نے چھ مہینے بعد ان کو اس قبر سے نکالا تو وہ ایک کان کے علاوہ ویسے ہی تھے جیسے ان کو پہلے دن قبر میں رکھا گیا تھا اور پھر ان کو علیحدہ قبر میں دفن کر دیا۔
02
Explanation
ایک رات عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے جابر رضی اللہ عنہ کو اٹھایا اور ان سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میں پہلا شخص ہوں گا، جسے قتل کیا جائے گا۔ یہ غزوۂ احد سے ذرا پہلے کی بات ہے۔ پھر ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میں جن لوگوں کو چھوڑ کر جاؤں گا، ان میں رسول اللہﷺ کے بعد سب سے عزیز شخص تم ہو۔ ان کو وصیت کی کہ ان کی طرف سے قرض ادا کر دے اور بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر جنگ ہوئی، انھوں نے قتال کیا اور شہید ہو گئے۔ غزوۂ احد کے دن ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ قبر کھودنا آسان نہ تھا، اس لیے مسلمان ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین افراد کو دفنانے لگے۔ عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایک آدمی کو دفن کیا گیا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کو دلی طور پر یہ اچھا نہ لگا اور اپنے والد اور ان کے ساتھ مدفون شخص کو الگ الگ کر دیا؛ انھوں نے تدفین کے چھ مہینے بعد قبر کھودی، تو ان کو ویسے ہی پایا، جیسے انھیں دفن کیا گیا تھا۔ ان کےجسم پر کان کے کچھ حصہ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور پھر انھیں الگ قبر میں دفنا دیا۔
Attribution
[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

