اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ قومِ نوح کے چند نیک لوگوں کے نام ہیں۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ ”اور انھوں نے کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا“۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ قوم نوح کے نیک آدمیوں کے نام ہیں۔ جب وہ فوت ہو گیے تو شیطان نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی کہ ان کی کوئی یادگار بنائیں وہ جہاں بیٹھتے ان کی یادگار بنا دیتے اور ان کے نام پر اس کا نام رکھتے۔ سو انھوں نے ایسا کیا لیکن ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گیے اور اصل بات بھی بھلا دی گئی تو ان کی عبادت شروع کر دی گئی۔
Explanation
Benefits
فوٹوگرافی اور اسے لٹکانے کی ممانعت۔ بالخصوص عظیم لوگوں کی تصاویر۔
شیطان کے مکر اور اس کے باطل کوحق کی شکل میں پیش کرنے سے آگاہی۔
بدعات و منکرات سے آگاہی، گرچہ ان کے کرنے والے کی نیت اچھی ہو۔
فوٹو گرافی شرک تک لے جانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔ لہذا ذی روح (جانداروں) کی تصویر کشی سے بچنا ضروری ہے۔
علم کے وجود کی قدر اور اس کے ضائع ہونے کے نقصان کو جاننا۔
علم کے فقدان کا سبب علما کا وفات پانا ہے۔
تقلید سے انتباہ و آگاہی اور یہ کہ بسا اوقات تقلید انسان کو اسلام سے خارج کر دیتی ہے۔
سابقہ امتوں میں شرک کا رائج ہونا۔
مذکورہ پانچ نام ان لوگوں کے ہيں، جن کی نوح علیہ السلام کی قوم عبادت کیا کرتی تھی۔
اہل باطل کا اپنے باطل پر اتفاق و تعاون۔
عمومی طور پر کافروں پر بد دعا کرنے کا جواز۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

