جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائیں گی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں۔ اس نے مجھ سے مانگا لیکن اُسے میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہ مل سکا۔ چنانچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی۔ اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں بچیوں میں بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اتنے میں نبی ﷺ گھر تشریف لائے۔ میں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائیں گی“۔
Explanation
نبی ﷺ کے فرمان: ”جس شخص کی آزمائش کی گئی“ سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس سے مراد بری آزمائش ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے مقدر میں یہ ہوئیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ [الأنبياء: 35] ترجمہ:”ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہمارہی ہی طرف لوٹائے جاؤگے“۔ یعنی جس کے مقدر میں دو بیٹیاں ہوئیں اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ بن جائیں گی۔ یعنی بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے اوٹ میں کر دے گا کیونکہ بیٹی کمزور ہوتی ہے اور کمائی نہیں کر سکتی۔ کمائی مرد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ [النساء: 34]۔
ترجمہ: ”مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں“۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

