نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے مارو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے مارو۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ كا بيان ہے کہ: تو ہم میں سے کوئى اسے اپنے ہاتھ سے، كوئى اپنے جوتے سے اور کوئى اپنے کپڑے سے ماررہا تھا۔ جب وہ (مار كهاكر) جانے لگا تو لوگوں میں سے کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔
Explanation
پھر جب لوگ اسے مار نے سے فارغ ہوگئے تو ان میں سے کسی نے اسے یہ بددعا دی کہ: ”اللہ تجھے رسوا کرے“ یعنی اسے رسوائی کی بددعا دی، جس کا مطلب لوگوں کے بیچ ذلت وخواری، اہانت و حقارت اور فضیحت ورسوائی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”ا سے اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ کیونکہ جب لوگ اسے ذلت ورسوائی کی بددعا دیں گے تو بسا اوقات ان کی بددعا قبول ہوسکتی ہے، تو اس طرح شیطان اپنی مراد کو پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ نیز اس لیے تاکہ گناہ گار سے نفرت نہ کی جائے جبکہ اس پرحد کا نفاذ ہو چکا ہے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

