ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
Explanation
آپ نے اس کا جواب دینے کے بجائے اسی سے پوچھ لیا کہ تم نے اس کی تیاری کے طور پر کون کون سے اچھے اعمال کیے ہیں؟
اس نے جواب دیا : میں نے اس کی تیاری کے طور پر کوئی بڑا کام تو نہيں کیا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس نے کسی دوسری قلبی، بدنی یا مالی عبادت کا ذکر نہيں کیا۔ کیوں کہ یہ ساری عبادتيں اسی محبت کی شاخیں ہیں اور اسی کے نتیجے میں سامنے آتی ہيں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سچی محبت انسان کو اچھے اعمال کی ترغیب دیتی ہے۔
اس کا جواب سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا : بے شک تجھے جنت میں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تجھے محبت ہے۔
اس خوش خبری سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو بڑی خوشی ہوئی۔
پھر انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے ہيں اور امید کرتے ہیں کہ ان کو ان حضرات کا ساتھ نصیب ہوگا، خواہ ان کا اپنا عمل ان حضرات کے جیسا نہ بھی رہے۔
Benefits
الله نے قیامت کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے، تاکہ انسان الله سے ملنے کے لیے مستعد اور تیار رہے۔
اللہ، اس کے رسول اور صالح مومنین سے محبت رکھتے کی فضیلت اور مشرکوں سے محبت رکھنے سے خبردار کرنا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا "تمھيں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے" کہنے کا مطلب درجہ اور منزلت میں برابری بتانا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں جنت میں اس طرح رہیں گے کہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، خواہ جگہ دور ہی کیوں نہ ہو۔
مسلمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس چیز پر توجہ دے، جو اس کے حق میں زیادہ بہتر اور نفع بخش ہو۔ غیر نفع بخش باتوں کے بارے میں نہ پوچھے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

