افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#2959[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا، تو آپﷺ ان جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ میرے پاس کوئی فیصلے کے لیے جھگڑا لےکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے بات کرے، جس کی بنا پر میں سمجھ لوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو جس شخص کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دوزخ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔
02

Explanation

نبی ﷺ نے کچھ جھگڑنے والوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، جو آپ ﷺ کے دروازے کے پاس جھگڑا اور بحث کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے،اور فرمایا:"میں تمھاری ہی طرح ایک انسان ہوں، میں غیب نہیں جانتا اور نہ مجھے مخفی امور کے بارے میں بتایا جاتا ہے، جن کی بنا پر مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ جن لوگوں کے مابین جھگڑا ہوتا ہے، وہ میرے پاس فیصلہ کرانے آتے رہتے ہیں اور میرا فیصلہ فریقین کے پیش کردہ دلائل اور قسموں پر مبنی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ فصیح و بلیغ اور قادر الکلام ہو اور میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کردوں حالاںکہ اندرونی حقائق کی رو سے اس کا مد مقابل حق پر ہو۔ تو جان لو کہ میرا فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ باطنی امور پر۔ چنانچہ میرے فیصلے کی وجہ سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوجاتی۔ اس لیے اگر میں کسی کو کسی دوسرے کا حق دے دوں، حالاںکہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ تو میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اس کا عقاب اسی کو ہو گا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کی گھات میں رہتا ہے۔

Attribution

[متفق علیہ]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...