افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#2943[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب ایک یہودی کا نام آیا، تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں)، یہودی پکڑا گیا اور اس نے جرم کا اقرار کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا جائے۔
صحیح مسلم اور سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی لالج میں ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو قصاص میں قتل کیا۔
02

Explanation

نبی ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ لوگوں نے اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق کرنے لیے، اس کے سامنے ان افراد کے نام گنانے شروع کر دیے، جن کے بارے میں اس بات کا گمان تھا کہ وہ اس کو قتل کرسکتے ہیں، تا آں کہ ایک یہودی کا نام لینے پر اس لڑکی نے اپنے سر سے مثبت اشارہ دیا کہ ہاں! اسی شخص نے اس کا سر کچلا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا ملزم قرار پاگیا۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے جرم کا اقرار کروایا، تاآں کہ اس نے اس لڑکی کو، اس کے چاندی کے زیورات کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ لہٰذا نبی ﷺ نے ”جیسے کو تیسا“ کے اصول کے مطابق، اس کو سزا دیتے ہوئے اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔

Attribution

[متفق علیہ]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...