HadeethEnc · 1.36.0
عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانہ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ‘‘۔(سورۂ بقرہ:198)۔ ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (رزق، ذرائع معاش) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں۔
Available translations
Choose an available translation of this Hadeeth
01
Hadeeth text
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار تھے، اس لیے (اسلام کے بعد) زمانۂ حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی کہ ’’لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ.(البقرۃ: 198)‘‘۔
ترجمہ: تم پر اپنے رب کا فضل (روزی روٹی) تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں ہے ـــــــــــــ یعنی زمانہ حج میں۔
02
Explanation
اسلام سے قبل یہ جگہیں مشرکین کے بازار ہوا کرتی تھیں جن میں وہ ایامِ حج کے دوران خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ایامِ حج میں ان بازاروں میں خرید و فروخت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو جائیں۔ اس پر اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ زمانۂ حج میں تجارت حج کو فاسد نہیں کرتی جب کہ مناسک حج کو شرعی طریقے سے ادا کر دیا جائے۔ اگرچہ ایام حج میں تجارت کرنا جائز ہے تاہم اولی اور زیادہ بہتر یہی ہے کہ مکمل طور پر مناسک حج کی ادائیگی کے لیے فارغ رہا جائے۔ یہ زیادہ افضل ہے۔
Attribution
[اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔]
Categories
Share
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

