’’یہ دونوں (عشا و فجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں۔ اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہو جائے، تو تم ان میں ضرور آؤگے، گھٹنوں کے بل چل کر ہی سہی۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابي بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دونوں (عشا و فجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں۔ اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہو جائے، تو تم ان میں ضرور آؤگے، گھٹنوں کے بل چل کر ہی سہی۔ بلا ريب پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے۔ اگر اس کی فضلیت کا علم تم کو ہو جائے، تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کروگے۔ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے۔ جس قدر جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی، اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔‘‘
Explanation
اے مومنو! اگر تم جان لو کہ صبح اور عشا کی نماز میں کتنا اضافی اجر و ثواب ہے، (کیوں کہ اجر و ثواب مشقت کے بہ قدر ملا کرتا ہے) تو تم ان دونوں نمازوں میں ضرور پہنچوگے۔ چاہے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔
بلاشبہ پہلی صف اس میں کھڑے لوگوں کے امام سے قریب ہونے کے لحاظ سے فرشتوں کی صف کی مانند ہے اللہ سے قریب ہونے کے لحاظ سے۔ اگر ایمان والے پہلی صف کی فضیلت سے واقف ہو جائيں، تو اس میں کھڑے ہونے کے لیے مقابلہ آرائی کرنے لگيں۔ بلاشبہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے اور دو شخص کے ساتھ نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ جس نماز میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور افضل ہے۔
Benefits
نماز باجماعت کا اہتمام بطور خاص عشا اور فجر کی نماز کا باجماعت التزام کرنا ایمان کی علامت ہے۔
حدیث سے عشا اور فجر کی نماز کے عظیم اجر وثواب کا پتہ چلتا ہے، کیوں کہ ان نمازوں میں حاضر ہونے کا تقاضا ہے کہ نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے اور اطاعت پر صبر کیا جائے، اس لیے ان نمازوں کا اجر دیگر نمازوں سے زیادہ ہے۔
باجماعت نماز دو یا دو سے زیادہ لوگوں سے منعقد ہوتی ہے۔
پہلی صف کی فضیلت کا بیان اور آگے بڑھ کر اس میں شامل ہونے کی ترغیب۔
اس حدیث سے جماعت میں کثیر تعداد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ لوگ جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی زیادہ جماعت کا اجر و ثواب ملے گا۔
حالات کے پیش نظر اور شریعت کے اہمیت دینے کے اعتیار سے صالح اعمال فضیلت میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

