لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو۔
Choose an available translation of this Hadeeth
Hadeeth text
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جس نے اسلام کو پہلے قبول کیا وہ امامت کرے۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے اور نہ کسی آدمی کے گھرمیں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔
Explanation
اول: امامت کا حق دار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو تاہم ضروری ہے کہ وہ نماز کے احکام کو جانتا ہو کیوں کہ جو شخص نماز کے احکام سے واقف نہ ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اگر قرآن کے حفظ میں لوگ برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اور اگر اس میں بھی وہ برابر ہوں تو ان میں سے جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امام بنے اور اگر اس میں بھی وہ برابرہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو وہ امامت کے لیے کھڑا ہو۔
دوم: صاحبِ بیت کی امامت کے لیے مہمان آگے نہ بڑھے اِلاّ یہ کہ میزباناسے اجازت دے دے۔ کیونکہ گھر والا امامت کا مہمان سے زیادہ حق دار ہے۔
سوم: مہمان گھر والے کے خاص بستر پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔
Attribution
Categories
Share hadeeth
Sharing options · 0 Total shares

