افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم. افتتاح البرنامج الدعوي السبت القادم، ٩ / ٣ / ١٤٤٨هـ بعد صلاة الفجر مباشرة مسجد محمد بن إبراهيم، الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة فضيلة الشيخ د. هيثم بن محمد سرحان دورة اليوم الواحد، وختم كتاب كل سبت بإذن الله حياكم الله ونفع بكم.
#11266[صحیح]
HadeethEnc · 1.36.0

بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے

Available translations

Choose an available translation of this Hadeeth

01

Hadeeth text

ابو تمیم جیشانی فرماتے ہیں کہ:میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اصحاب رسول میں سے کسی نے یہ بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے، خبردار! (جنھوں نے خبر دی) وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جو کہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ ابو ذر نے کہا اے ابوبصرہ! کیا تو نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے۔ فرمایا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
02

Explanation

حدیث کا مفہوم: ”بے شک اللہ عزوجل نےتمہارے لیے ایک نماز زیادہ کی ہے“ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید ایک ایسی نماز دی تھی جس کو وہ پہلے اس کیفیت اور انداز سے نہیں پڑھتے تھے اور وہ وتر ہے۔ اور یہ بطور احسان وارد ہوئی ہے جیسا کہ فرمانِ رسول ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تاکہ تمہیں اجر و ثواب سے نوازے لیکن اسی پر اکتفا نہیں بلکہ تمہارے لیے تہجد اور وتر کو بھی مشروع کیا ہے تاکہ تم پر مزید احسان پر احسان کرے“، لہذا، اس کو پڑھو یہ حکم ہے اور قاعدہ یہی ہے کہ حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس حدیث اور دیگر اس جیسی احادیث کے ظاہر سے اس نماز کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن بہت سارے صحیح اور صریح دلائل نے اس کو وجوب سے پھیر دیا ہے یعنی وتر کی نماز فرض نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد نماز وتر کی ادائیگی کے لیے وقتِ زمانی کا تعین کیا جوکہ نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین، یعنی نماز وتر کا وقت نماز عشاء سے فارغ ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جب نماز عشاء پڑھ لی تو نمازِ وتر کا وقت شروع ہو جاتا چا ہے جمع تقدیم کرتے ہوئے عشاء کو مغرب کے ساتھ جمع کر لیا گیا ہو۔ اور اس کا آخری وقت طلوعِ فجر ہے۔ جب فجر طلوع ہو گئی نماز وتر کا وقت ختم ہو گیا،اوراگر وقت ہے تو اسے پورا کرے۔
پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خبردار! وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں“ یعنی جس نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی تھی وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔
ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابو بصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جوکہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا، یعنی جب ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کےحوالے سے یہ خبر ملی تو اس کی صحت کی تاکید کے لیے دونوں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چل نکلے۔جب ان کی ملاقات ابو بصرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے نبی کریمﷺ سے نقل کی جانے والی بات کی صحت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا :ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے نبی کریمﷺ سے نقل کرنے والی بات ”إن الله زادكم صلاة“ کے بارے میں تاکید کے ساتھ بتایا کہ یہ صحیح ہے۔

Attribution

[اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔]

Categories

Share

Share hadeeth

Sharing options · 0 Total shares

Share

← Back to encyclopedia
Shopping Basket

Loading...